ایران جنگ کے بعد خلیجی معیشت متاثر، اماراتی کاروباری حلقوں کی امریکا پر تنقید

متحدہ عرب امارات میں رہنے والے کاروباری حلقوں اور معروف سرمایہ کاروں نے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکا پر کڑی تنقید شروع کر دی ہے۔
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق یہ تنقید امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے باعث خلیجی ممالک کے مالیاتی بازار اور معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
اس صورتحال نے خلیجی خطے کے استحکام کی اس ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے جو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی تھی۔
تل ابیب میں تباہی، 100 میٹر زیر زمین سرنگیں بھی لرز گئیں
رپورٹ کے مطابق دبئی اور ابوظبی میں مختلف شعبے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ سپلائی چین بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ ایک ماہ سے زیادہ جاری رہی تو کمپنیوں کو پیداوار اور خدمات کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق ایران کے حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ بننے والا متحدہ عرب امارات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی اتحادی رہا ہے اور اس نے امریکا میں تقریباً 1.4 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔












